الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ))سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے آسان عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر و سماحت۔“ لیکن اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے ہلکے عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کو متہم نہ ٹھہرانا، (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جانا)۔“