حدیث نمبر: 209
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے آسان عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر و سماحت۔“ لیکن اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے ہلکے عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کو متہم نہ ٹھہرانا، (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جانا)۔“

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف اعمال کی ترتیب لگا دی ہے، تاکہ ہر آدمی اپنے حالات کے مطابق اپنے لیے کوئی راہ نکال سکے۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیوی اور اخروی ترقی کے لیے محنت کرتے ہوئے جائز اسباب استعمال کرے، لیکن اگر کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا محنت کا ثمرہ نہیں ملتا تو اس کو اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر راضی ہو جائے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 209
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين ۔ أخرجه ابو يعلي في مسنده الكبير ، والبخاري في خلق افعال العباد : 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23094»