الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ باب: مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ، قَالَ عُقْبَةُ: أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُابو الخیر کہتے ہیں: میں نے ابو تمیم عبد اللہ بن مالک جیشانی کو مغرب کی اذان سنتے ہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا،یہ دیکھ کر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اوران سے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم جیشانی کی بات سنا کر تعجب میں نہ ڈالوں، وہ تو مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں ان پر عیب لگاؤں، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبر دار! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھاکرتے تھے، میں نے کہا: تو پھر اب آپ کو کونسی چیز منع کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: مصروفیت۔