الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ (يَعْنِي بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَيَّلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ! أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي، قَالَ: أَجْلِسُونِي، قَالَ: يَا بُنَيَّ! إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَمْ تَبْلُغْ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ! فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، يَا بُنَيَّ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ: اكْتُبْ! فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) يَا بُنَيَّ! إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَولید بن عبادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے گیا، جبکہ وہ بیمار تھے اور میرا خیال تھا کہ اس بیماری میں ان کی موت واقع ہو جائے گی، پس میں نے کہا: ”ابا جان! کوئی وصیت کر دو اور میرے لیے کوشش کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے بٹھاؤ،“ پھر انہوں نے کہا: ”میرے پیارے بیٹے! تو اس وقت تک نہ ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی حقیقت کو پہنچ سکتا ہے، جب تک تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا۔“ میں نے کہا: ”ابا جان! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جان لے کہ جو چیز تجھ سے تجاوز کر جانے والی ہے، وہ تجھے لاحق نہیں ہو سکتی اور جو چیز تجھے لاحق ہونے والی ہے، وہ تجھ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا، وہ قلم ہے، پھر اس نے اسے کہا: تو لکھ، پس وہ چل پڑی اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے امور لکھ دیے۔ اے میرے بیٹے! اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔“