حدیث نمبر: 2079
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((ارْكَعُوا هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ))، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ تُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيهُمَا فِي بَيْتِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَٰذِهِ مِنْ صَلَاةِ الْبُيُوتِ))، قَالَ: مَنْ هَٰذَا؟ قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ مَا أَحْسَنَ مَا انْتَزَعَ (وَفِي رِوَايَةٍ) مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبدالاشہل کے پاس آئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: یہ دو رکعتیں گھروں میں پڑھا کرو۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ سے کہا کہ ایک آدمی کا یہ خیال ہے کہ جس نے مغرب کے بعد دو رکعتیں مسجد میں پڑھیں، تو یہ اسے کفایت نہیں کریں گی، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو اپنے گھر میں ادا کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گھروں کی نماز میں سے ہیں۔ میرے باپ نے پوچھا: یہ کون آدمی ہے؟ میں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن ہے، انہوں نے کہا: کتنی اچھی بات اس نے کہی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے بیان کی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے نقل کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ کہنا کہ اگر مغرب کی سنتیں مسجد میں ادا کی جائیں تو وہ کفایت ہی نہیں کرتیں،یہ بات انتہائی قابل نظر ہے۔ ہاں یہ بات واضح ہے کہ نفلی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23624، 23628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24028»