الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ باب: عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِعبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف (ایک آدمی) بھیجا اورپھر اس کے پیچھے ایک اور آدمی بھی بھیج دیا،میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر تیار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، لیکن اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقے کی سواریاں لائی گئیں، آپ انہیں صحابہ میں تقسیم کرنے لگے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا، حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے دو یا اس سے زائد رکعتیں، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پڑھتے تھے، (اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رکعتیں ادا نہ کر سکے تھے) اس لیے جب عصر پڑھ کر واپس آئے تو وہ پہلے والی نماز ادا کی، اصل بات یہ تھی کہ جب آپ کوئی نماز پڑھتے یا کوئی کام کرتے تو اس پر ہمیشگی کرنا پسند فرماتے تھے۔