حدیث نمبر: 2073
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ: فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن آپ مشغول ہو گئے اور یہ دو رکعتیں ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کرمیر ے گھر میں آئے تو ان کو ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وفات پانے تک تر ک نہیں کیا۔ عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم یہ نماز پڑھتے تو تھے، لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو وہ احادیث موصول ہوئیں، جن میں نماز عصر کے بعد نماز سے مطلق طور پر منع کیا گیا ہے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کو ترک کر دیا تھا، بہرحال اثبات کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه اسحاق: 1668، 1669 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26062»