الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ باب: عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ: فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُعبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن آپ مشغول ہو گئے اور یہ دو رکعتیں ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کرمیر ے گھر میں آئے تو ان کو ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وفات پانے تک تر ک نہیں کیا۔ عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم یہ نماز پڑھتے تو تھے، لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔