الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ رَاتِبَةِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: عصر کی سنن رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2062
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان میں سے ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے۔ یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنا بھی سنت ہے، اس کے کئی دلائل موجود ہیں، بعض کا تذکرہ اگلے ابواب میں بھی آئے گا۔