الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ جَبَلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَلَوْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ وَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ مِثْلَ ذَلِكَابن دیلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: ”اے ابو منذر! تقدیر کے بارے میں میرے دل میں وسوسہ سا پیدا ہونے لگا ہے، کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ جس سے میرے دل کی یہ کیفیت ختم ہو جائے۔“ انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ عذاب دے دے، جبکہ وہ ان کے حق میں ظالم نہیں ہو گا اور ان سب پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہتر ہو گی اور اگر تو احد پہاڑ کے بقدر سونا اللہ کے راستے میں خرچ کر دے تو وہ اس کو تجھ سے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا، جب تک تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا اور یہ نہیں جان لے گا کہ جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھے پہنچ کر رہے گی تو وہ تجھ سے تجاوز نہیں کرے گی اور جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھ سے تجاوز کر جائے گی تو وہ تجھ تک نہیں پہنچ پائے گی، اگر تو (تقدیر کے بارے میں) اس عقیدے پر نہ مرا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔ پھر میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے آیا، انہوں نے بھی مجھے اسی قسم کی بات بیان کر دی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیا، انہوں نے بھی اسی قسم کی بات کہہ دی، پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے آیا اور انہوں نے بھی مجھے اس قسم کی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر دی۔