الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ رَاتِبَةِ الظُّهْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2058
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُدِيمُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے دوام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، کسی نے ان سے کہا: آپ بڑی باقاعدگی کے ساتھ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرانیک عمل اس وقت میں بلند ہو۔
وضاحت:
فوائد: … فاصلہ کرنے والے سلام سے مراد یہ ہے چار رکعتوں کو دو دو رکعتیں کر کے ادا کیا جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اکٹھا ادا کرنے کی تعلیم دی ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ ان سنتوں کو دو دو رکعت کر کے بھی ادا کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ مَثْنٰی مَثْنٰی۔)) … رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔
امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ
باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔
امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ
باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔