حدیث نمبر: 2057
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَدَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَٰذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدَامْتَهَا؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلَّهُنَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ: ((لَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد ہمیشہ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ رکعتیں کیسی ہیں کہ آپ دوام کے ساتھ ان کو ادا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زوالِ آفتاب کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اس وقت تک بند نہیں ہوتے، جب تک نماز ِ ظہر نہ پڑھ لی جائے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں بلند ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان ساری رکعتوں میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: ان میں فاصلہ کرنے والا سلام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2057
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناده ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه۔ أخرجه ابن ماجه: 1157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23929»