الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2055
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْمَوْتُ، اشْتَدَّ جَزَعُهُ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ يَعْنِي أُخْتَهُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ)) فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے گا۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی صورت میں ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو سنتیں نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۱۸۲، مسند احمد: ۲۴۳۴۰)