حدیث نمبر: 2054
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا، فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2054
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس، وقابوس فيه لين، وقال ابن حبان: كان رديء الحفظ، ينفرد عن أبيه بما لا أصل له۔ أخرجه الطيالسي: 1575، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 1156، وابن ابي شيبة: 2/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24665»