الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2051
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔