الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2050
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو ،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔