الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2042
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔