الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2041
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھر میں اور مسجد میں نماز کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں نماز اور گھر میں نماز، تودیکھتا تو ہے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے،لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے، الّا یہ کہ وہ فرض نماز ہو۔