الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ))(تیسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر تمہارا ایمان لانا۔“ یہ سن کر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ سچ کہہ رہے ہیں،“ ہمیں اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ یہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تم کو دین کی نشانیوں کی تعلیم دینے آئے تھے۔“