الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2039
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔
وضاحت:
فوائد: … گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ اس کے دو مفہوم ہیں: (۱)مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جو اپنی قبروں میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ (۲)جو آدمی اپنے گھر میں نفلی نماز نہیں پڑھے گا، اس نے اپنے آپ کو میت اور اپنے گھر کو قبر بنا دیا ہے۔
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)