حدیث نمبر: 2032
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي (وَفِي رِوَايَةٍ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى) لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَفِي أُخْرَى: فِي لَيْلِهِ وَنَهَارِهِ) ثِنْتَيْ عَشَرَةَ رَكْعَةً (وَفِي رِوَايَةٍ سَجْدَةً) تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بُنِي لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ)) فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ عَمْرٌو: مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ایک دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کے لیے فرض نماز کے علاوہ بارہ رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ہمیشہ سے یہ رکعتیں ادا کر رہی ہوں۔ (سند کے راوی) عمرو کہتے ہیں میں بھی حدیث پڑھنے کے بعد ان رکعتوں کو پڑھ رہا ہوں۔ (سند کے ایک اور راوی) نعمان کہتے ہیں میں بھی یہ رکعتیں ہمیشہ سے پڑھ رہا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … ترمذی کی روایت کے مطابق ان بارہ رکعات کی تفصیلیہ ہے: فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو، اسی نفلی نماز کو ہمارے معاشرے میں سننِ مؤکدہ کہا جاتا ہے۔ لیکن نسائی کی روایت میں عصر سے پہلے دو سنتوں کا ذکر ہے اور عشاء کے بعد والی سنتوں کا ذکر نہیں ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عصر سے پہلے اور عشاء کے بعد والی دو دو سنتوں کا ذکر ہے، لیکن انھوں نے ظہر کی نماز سے پہلے صرف دو سنتوں کا ذکر کیا ہے اور امام ترمذی نے ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو کو ثابت کیا ہے۔ امام شوکانی نے اس اختلاف کو یوں حل کیا: یہ بات تو متعین ہی ہے کہ ان احادیث میں جتنی رکعات کا بیان ہے، وہ سب ہی مشروع ہیں، اگرچہ ان کی تعداد چودہ بن جاتی ہے، جبکہ مذکورہ ثواب کے حصول کا تعلق تو بارہ رکعتوں سے ہے، لیکن اس چیز کا علم نہیں ہو رہا کہ ان چودہ میں سے وہ بارہ رکعتیں کون سی ہیں، ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ چودہ رکعتیں ہی ادا کی جائیں، تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہے، اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوبہ بارہ بھی ادا ہو جائیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 728 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27317»