حدیث نمبر: 2031
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرِهِمُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ)) ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میں گر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سجدہ کسی نعمت کے حصول، مصیبت و تکلیف سے چھٹکارے اور خوشی و مسرت کے موقع پر کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2031
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وأبوه عبد العزيز بن ابي بكرة روي عنه جمع، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات ، ولسجود الشكر شواھد۔ أخرجه البزار: 3692، والحاكم: 4/ 291، وأخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 178، وابن ماجه: 1394 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»