حدیث نمبر: 2027
عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص، فَقَالَ نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتَقْرَأُ هَٰذِهِ الْآيَةَ؟ (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ) وَفِي آخِرِهَا (فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ) قَالَ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عوّام بن حوشب کہتے ہیں: میں نے مجاہد سے سورۂ ص والے سجدے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: جی ہاں، یہ سجدہ ہے، اور میں نے اس کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا: کیا تو یہ آیت پڑھتا ہے: {وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاودَ وَ سُلَیمَانَ}، اسی کے آخر میں ہے: {فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ} (اے محمد! آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں)۔ دیکھیں کہ تمہارے نبی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ داود علیہ السلام کی پیروی کریں۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں اور سورۂ ص میں ایک، لہٰذا احناف اور شوافع کی رائے درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2027
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3421، 4806، 4807 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3388»