حدیث نمبر: 2020
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، جعفر بن المطلب بن ابي وداعة السھمي مقبول۔ أخرجه النسائي: 2/ 160 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15544»