الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِمَشْرُوعِيَّةِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي سُوَرِ الْمُفَصَّلِ باب: (۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 2020
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔