الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا، فَقَالَ: أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَاءُ، ثُمَّ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: ((تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: ((تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ))، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ(دوسری سند) یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ معاملہ ان کے اختیار میں ہے، پس اگر وہ چاہیں تو عمل کر لیں اور چاہیں تو نہ کریں، آگے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ان کو یہ اطلاع دے دو کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ پھر انہوں نے کہا: جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ امور سر انجام دوں گا تو کیا میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”احسان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”پس جب میں اس طرح کروں گا، تو کیا میں صاحبِ احسان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں،“ پھر انہوں نے کہا: ”اچھا یہ بتائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، جنت، جہنم اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”پس جب میں اس طرح کروں گا تو کیا میں مومن بن جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں۔“