الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِمَشْرُوعِيَّةِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي سُوَرِ الْمُفَصَّلِ باب: (۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 2018
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ إِلَّا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَرَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس نے مٹھی بھر مٹی اپنی پیشانی کی طرف اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تھا کہ وہ آدمی بحالت ِ کفر قتل ہو گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سجدۂ تلاوت نہ کرنے والا یہ شخص امیہ بن خلف تھا۔