حدیث نمبر: 2003
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اورسلام پھیر کر ان کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پوشیدہ طور پر باتیں کرنے لگے پس انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھرے اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2003
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 572، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4282»