حدیث نمبر: 2001
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر تینیا چار رکعتی نماز میں درمیانہ تشہد رہ جائے تو سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدوں کے ذریعے اس کمی کی تلافی کی جائے گا، جب سلام کے بعد سجدے کیے جائیں گے تو اِن سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، نیز آخریحدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی درمیانہ تشہد چھوڑ کر بھول کر کھڑا ہو رہا ہو اور سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے بھول جانے کا احساس ہو جائے تو وہ بیٹھ جائے، لیکن اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو درمیانے تشہد کے لیے واپس نہ لوٹے اور اپنی نماز کو جاری رکھے، لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2001
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه۔ انظر الحديث السابق: 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18409»