الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَنْ نَسِيَ الْجُلُوسَ الْأَوَّلَ حَتَّى انْتَصَبَ قَائِمًا لَمْ يَرْجِعْ باب: جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے¤اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ))سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔