حدیث نمبر: 2
عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ» الْآيَةَ، قَالَ:جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِذَلِكَ، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي، قَالُوا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ غَيْرَكَ، فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ» کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کو روحوں کی شکل میں جمع کیا، پھر ان کی تصویریں بنا کر ان کو بلوایا، پس یہ بولے، پھر ان سے ایک مضبوط عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اور کہا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کو تم پر گواہ بناتا ہوں اور میں تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیامت والے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں تو اس چیز کا علم ہی نہیں تھا۔ جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب، پس تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، عنقریب میں تمہاری طرف اپنے پیغمبروں کو بھیجوں گا، وہ تمہیں میرے وعدے اور میثاق کو یاد کرائیں گے اور میں تم پر کتابیں بھی نازل کروں گا۔ ان سب نے جواباً کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں ہے، پس انہوں نے اس چیز کا اقرار کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 2
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اثر ضعيف، محمد بن يعقوب الربالي مستور۔أخرجه الحاكم: 2/ 323، والبھيقي في الاسماء والصفات : ص 368 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21552»