الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَنْ نَسِيَ الْجُلُوسَ الْأَوَّلَ حَتَّى انْتَصَبَ قَائِمًا لَمْ يَرْجِعْ باب: جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے¤اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
حدیث نمبر: 1999
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى أَمَامَهُمْ، فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔