الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ باب: سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ هُوَ هَٰذَا، فَقَالُوا: طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُسیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ایک نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چلے گئے، جب کہ اس نماز سے ایک رکعت باقی تھی، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملا اور کہا: آپ نماز سے ایک رکعت بھول گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انھوں نے نماز کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ جب میں نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو وہ مجھ سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، ہاں اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پہنچان لوں گا، اتنے میں وہ میرے پاس سے گزر پڑا، میں نے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے، لوگوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔