حدیث نمبر: 1995
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدِهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: ((أَصَدَقَ هَٰذَا؟)) قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی تین رکعت کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر اٹھ کر گھر چلے گئے، ایک آدمی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، اسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر تشریف لائے اور فرمایا: کیایہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں! تو آپ نے جو رکعت چھوڑی تھی، وہ ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1995
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 574 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20066»