حدیث نمبر: 1994
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالَ: فَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عطا کہتے ہیں:سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اوردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کرحجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہواہے؟ (جب صورتحال بتائی گئی) تو انھوں نے بقیہ نماز پڑھی اور دو سجدے کیے، جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نمازی کسی رکن کی ادائیگی کے بغیر سلام پھیر دے، تو سابقہ نماز کو بنیاد بنا کر اپنی نماز مکمل کرے اور سلام پھیر کر سجدے کرے، لیکن سہو کے سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، جیسا کہ اگلے باب میں مذکورہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس حدیث سے ایک اور اہم مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نہ بھول کر نماز میں کلام کرنے والے کی نماز باطل ہوتی ہے اور نہ اس شخص کی کہ جو یہ سمجھ کر کلام کر رہا ہو کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔ حدیث میں مذکور صحابی ذوالیدین کا نام خرباق تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہا تھا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھییہ حدیث بیان کی تھی، ایک صحابی ذوالشمالین تھے، یہ خزاعی تھے اور ان کا نام عمیر بن عبد عمرو تھا، یہ غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ صحابی اس حدیث کے راوی نہیں ہیں، جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ احناف نے اس حدیث کو منسوخ قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث محکم ہے، کیونکہ مدنی دور کے شروع میں نماز میں کلام کی حرمت کا نزول ہو گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں مذکورہ واقعہ تو سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جیسا کہ ابھی ابھی تفصیل گزر چکی ہے، نیز اس موضوع پر نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان میں بحث ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1994
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، مطر بن طھمان الوراق قد تابعه عن عطاء غير واحد۔ أخرجه الطيالسي: 2658، والبيھقي: 2/ 360، وعبد الرزاق: 3492 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3285»