حدیث نمبر: 1993
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ سَادِسٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ))، فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟)) فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (چھٹی سند)سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے اے اللہ کے رسول ! یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا کچھ تو ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں پر متوجہ ہوکر فرمانے لگے: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بقیہ نماز مکمل فرمائی، پھر دو سجدے کیے، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1993
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 573 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9927»