الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ وَفِيهِ ذِكْرُ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ باب: دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے قصے کا تذکرہ
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَهَا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحَقُّ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ آخِرَتَيْنِ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي ضَمْدَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔