حدیث نمبر: 1992
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَهَا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحَقُّ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ آخِرَتَيْنِ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي ضَمْدَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔

وضاحت:
فوائد: … اس سند کے الفاظ سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقوعہ میں موجود تھے، کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ اور یاد رہنا چاہیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سات سن ہجری میں غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد کا ہے، اس لیے اس کو منسوخ نہیں سمجھا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1992
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 573، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9458»