الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ لِلْمُصَلِّي وَمَا يَدْفَعُ ذَلِكَ باب: نمازی کے لیے شیطان کے وسوسے ڈالنے اور اسے دفع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1987
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَاصِمِ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ أَخَفَّهُمَا وَأَتَمَّهُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ ثُمَّ قُلْنَا لَهُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَكْعَتَيْكَ هَاتَيْنِ جِدًّا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الشَّيْطَانَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فِيهِمَا، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے نماز تو اختصار سے پڑھی ہے، لیکن پوری توجہ کے ساتھ ادا کی ہے، اگر وہ طوالت اختیار کرتے تو ممکن تھا کہ شیطان دوسرے خیالات میں مبتلا کر دیتا۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہماری شریعت میں طویل قیام محبوب عمل ہے اور نماز میں شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو طریقہ بتلایا ہے، اس کا بیان اگلی حدیث ِ مبارکہ میں آ رہا ہے۔