الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ لِلْمُصَلِّي وَمَا يَدْفَعُ ذَلِكَ باب: نمازی کے لیے شیطان کے وسوسے ڈالنے اور اسے دفع کرنے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَمَّارًا (يَعْنِي بْنَ يَاسِرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَا أَرَاكَ إِلَّا خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، وَلَٰكِنْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا السَّهْوَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا عُشْرُهَا أَوْ تُسْعُهَا أَوْ ثُمَنُهَا أَوْ سُبُعُهَا، … )) حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِسیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، … ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔