حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ) عَنْ سُفْيَانَ (يَعْنِي الثَّوْرِيَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا إِغْرَارَ فِي الصَّلَاةِ)) فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ لَا غَرَارَ فِي الصَّلَاةِ، وَمَعْنَى غِرَارَ يَقُولُ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ عَلَى الْيَقِينِ وَالْكَمَالِ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْقَوْلُ بَعْدَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ: 887
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نماز میں نقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی صحیح احادیث میں سہو کے دو سجدوں کی درج ذیل تین صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1985
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938»