الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ باب: نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1984
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعمرو شیبانی نے کہا: لَاغِرَارَ کا معنییہ ہے کہ آدمی اپنی نماز سے اس حال میں نہ نکلے کہ اسے نماز کے کسی حصے کے باقی رہنے کا گمان ہو، بلکہ (وہ اس وقت سلام پھیرے) جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ ابن اثیر نے کہا: غِرَارُ الصَّلَاۃِ سے مراد نماز کی کیفیات و ارکان میں نقص کرنا ہے اور غِرَارُ التَّسْلِیْمِ سے مراد یہ ہے کہ نمازی (جوابًا) وَعَلَیْکَ کہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: وَلَا تَسْلِیْمَ کا یہ معنی نہیں کہ غیر نمازی، نمازی کو سلام نہ کہے، کیونکہ کئی احادیث میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارے سے جواب دیتے تھے)۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قبا میں گئے اور نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں انصاری لوگ آئے اور آپ کو سلام کہا، حالانکہ آپ نماز میں تھے۔ میں نے سیدنا بلال سے پوچھا: جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت ِ نماز میں سلام کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ (اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح کرتے تھے۔ پھر (آپ کے ہاتھ کی کیفیت بیان کرنے کے لیے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔ (ابوداود) (صحیحہ: ۳۱۸) خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ جب تک نمازی کو نماز کی تکمیل کا یقین نہ ہو جائے وہ سلام نہیں پھیر سکتا، نیز وہ سلام کا جواب بول کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اسے کلام کہتے ہیں، جو نماز میں حرام ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)