حدیث نمبر: 1982
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درج ذیل حدیث کی بنا پر درست ہے: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اس کو ایک سمجھے اور اگر اسے یہ شک پڑ جائے کہ دو رکعات پڑھی ہیںیا تین، تو ان کو تین سمجھے، … …۔ (حسن لغیرہ، مسند احمد: ۱۶۵۶، ترمذی: ۳۹۸، ابن ماجہ: ۱۲۰۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1982
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسماعيل بن مسلم المكي البصري متروك الحديث، قاله النسائي۔ أخرجه البزار: 997، وابويعلي: 855، والدارقطني: 1/ 369، والبيھقي: 2/ 332 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1689»