حدیث نمبر: 1981
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِكْ كَمْ صَلَّى فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وَتْرًا صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعت ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعتیں ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں دیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی چار رکعتی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لیتا ہے تو چار رکعت بطورِ فرض قبول ہوں گے اور بقیہ ایک رکعت، سہوکے دوسجدوں کے ساتھ مل کر دو نفل کے قائم مقام ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے نماز پوری ہی پڑھی ہو گی تو سہو کے سجدوں کی وجہ سے شیطان ذلیل ہو گا کہ اس نے تو نماز کو باطل ہو جانے اور نمازی پر اس کو خلط ملط کر دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے زائد دو سجدوں کے ذریعے اسے مزید ذلیل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1981
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 571 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11712»