حدیث نمبر: 1980
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔

وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث میں اس تفصیل کا بیان ہے کہ سجدۂ سہو کرنے سے پہلے رکعات کی تکمیل کیسے کرنی ہو گی۔ شیطان کا بے وضو کہنے سے مراد بے وضگی کا وسوسہ ڈالنا ہے، ایسی صورت میں نمازی کو اس کے وسوسے سے متأثر نہیں ہونا چاہیے اور ایسے خیال کو فوراً دفع کر دینا چاہیے، ہاں اگر نمازی کو وضو ٹوٹ جانے کا یقین ہو جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1980
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عياض۔ أخرجه ابوداود: 1029، والترمذي: 396، وابن ماجه: 1204 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11098»