الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي تَقْدِيرِ حَالِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ باب: انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا رِزْقُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَجَلُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيُعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيُعْلَمُ))سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔“