الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ باب: نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1976
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَٰكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو۔ اس سے مراد ظن غالب ہے کہ وہ مختلف قرائن کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کرے جس پر اس کے نفس کو اطمینان ہو۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے، جس میں بندے کو ایسا شک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کم پر یقین کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اس شک والی صورت کی وضاحت اس باب کی پہلی حدیث میں ہو چکی ہے۔