حدیث نمبر: 1973
عَنْ مُرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَمْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعتیں پڑھی ہیں یا طاق؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو دوسری روایات کی روشنی میں سمجھیں گے کہ ایسا نمازی کمی کی صورت میں پہلے کمی کو پورا کرے گا، پھر سجدے کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1973
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن وانظر الحديث بالسند الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 450»