حدیث نمبر: 1972
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا غُلَامُ! هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ هَٰذَا الْغُلَامَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجْدَتَيْ سَهْوٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔

وضاحت:
فوائد: … جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ کوئی ظن غالب قائم نہ کر سکے تو احتیاط کرتے ہوئے کم تعداد پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کرے اور ایسی صورت میں سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، ان کو سجدۂ سہو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1972
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 398، وابن ماجه: 1209 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1656»