حدیث نمبر: 1971
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قُلْتُ: أَبَيْنَهُمَا جَدْرُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: لَا، فِي الْبَيْتِ إِلَى جَدْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ بعض ضعیف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونا منع ہے، اگر وہ ثبوت کے درجہ تک پہنچ جائیں تو ان کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا کہ جب سونے والے آدمی کی وجہ سے نمازی کا خشوع وخضوع متأثر ہو رہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1971
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه عبد الرزاق: 1073، واسحاق بن راھويه في مسنده : 821، وانظر الحديث رقم: 875 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26166»