الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْمَرْأَةِ أَمَامَ الْمُصَلِّي فِي الظَّلَامِ باب: تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1970
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِي مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے تھے کہ وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔جناب عروہ نے کہا: کیایہ عورتیں تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قولی حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہر خاتون کسی نہ کسی کی ماں، خالہ یا پھوپھی ہوتی ہے، اس لیے نمازی کے سامنے ان کے اس طرح لیٹنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔