الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْمَرْأَةِ أَمَامَ الْمُصَلِّي فِي الظَّلَامِ باب: تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1967
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَتْ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دباتے، پس میں اپنی ٹانگوں کو اکٹھا کر لیتی،جب آپ کھڑے ہوتے تو میں ان کو پھیلا دیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔