الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْمُخَطَّطِ وَفِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَفِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى باب: دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
حدیث نمبر: 1966
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوتی تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے مجھے لگ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اگر نماز کا کپڑا حائضہ کو لگ رہا ہو تواس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔