الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْمُخَطَّطِ وَفِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَفِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى باب: دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
حدیث نمبر: 1960
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بُرْدَةٍ حِبْرَةٍ قَالَ أَحْسَبُهُ عَقَدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار یمنی چادرمیں نماز پڑھی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی ۔
وضاحت:
فوائد: … دوکناروں کے درمیان گرہ لگانے سے مراد توشیح ہے، جس کی تعریفیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈال دیا جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دی جائے۔ لباس کا مکمل بیان شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب میں گزر چکا ہے۔