الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
فَصْلٌ آخَرُ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَ فَضْلِهِ باب: تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 196
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللَّهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پر تعجب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کے لیے خیر ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … جائز اسباب کے استعمال کے بعد ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اور ہر آزمائش پر صبر کرنا چاہیے اور ماضی پر پچھتاوے کی بجائے مستقبل کے لیے نتیجہ خیز لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، مثلا اگر کسی بد احتیاطی یا معصیت کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا بے عزتی ہو جاتی ہے تو آئندہ کے لیے احتیاط کرے اور نافرمانیوں سے بچے۔